ہاضمہ ہمارے جسم کے اہم نظاموں میں سے ایک ہے۔ جب نظامِ ہاضمہ درست طریقے سے کام نہ کرے تو روزمرہ زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ سینے کی جلن، قبض، اسہال، پیٹ درد، گیس اور اپھارے جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں، لیکن اکثر انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اگر ان علامات پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ ہاضمے کی کسی بیماری کی نشاندہی بھی کر سکتی ہیں۔ خوش قسمتی سے متوازن غذا، صحت مند طرزِ زندگی اور بروقت طبی معائنہ اختیار کرکے کئی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔
جی ای آر ڈی ایک ایسی بیماری ہے جس میں معدے کا تیزاب غذائی نالی کی طرف واپس آجاتا ہے۔ اس کی وجہ سے سینے میں جلن، کھٹی ڈکاریں، گلے میں جلن، مسلسل کھانسی اور نگلنے میں دشواری محسوس ہو سکتی ہے۔
اگر یہ علامات بار بار ظاہر ہوں تو ماہر معدہ سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔ بعض اوقات اینڈوسکوپی کی مدد سے بیماری کی درست تشخیص کی جاتی ہے۔
آئی بی ایس ایک عام ہاضمے کی بیماری ہے جو بڑی آنت کو متاثر کرتی ہے۔ اس میں مریض کو پیٹ درد، اپھارہ، قبض، اسہال یا دونوں مسائل باری باری ہو سکتے ہیں۔
متوازن غذا، ذہنی دباؤ میں کمی اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ علاج پر عمل کرنے سے علامات میں کافی بہتری آ سکتی ہے۔
اگر اسہال چار ہفتوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہے تو اسے دائمی اسہال کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ انفیکشن، غذائی حساسیت، آنتوں کی بیماریاں یا غذائی اجزاء کے صحیح جذب نہ ہونے کے مسائل ہو سکتے ہیں۔
مسلسل اسہال کی صورت میں ڈاکٹر سے فوری مشورہ کرنا ضروری ہے۔
قبض ایک عام مسئلہ ہے جس میں پاخانہ سخت ہو جاتا ہے یا کئی دن تک پاخانہ نہیں آتا۔
قبض سے بچنے کے لیے زیادہ پانی پئیں، فائبر سے بھرپور غذا کھائیں اور روزانہ جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں۔
سیلیک بیماری ایک خودکار مدافعتی بیماری ہے جس میں جسم گندم، جو اور رائی میں موجود گلوٹن کو برداشت نہیں کر پاتا۔
اس بیماری کی عام علامات میں اسہال، اپھارہ، وزن میں کمی، کمزوری اور غذائی کمی شامل ہیں۔
اس بیماری میں بڑی آنت کی دیوار میں چھوٹے تھیلے بن جاتے ہیں جن میں سوزش پیدا ہو سکتی ہے۔
اس سے پیٹ درد، بخار، قبض یا آنتوں کی دیگر شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہ بیماری وائرس، بیکٹیریا یا آلودہ خوراک کی وجہ سے ہوتی ہے۔
اس کی علامات میں شامل ہیں:
شدید علامات کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں۔
اگر آپ کو درج ذیل علامات بار بار محسوس ہوں تو انہیں نظر انداز نہ کریں۔
اپنی خوراک میں تازہ سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور فائبر والی غذائیں شامل کریں۔
زیادہ مرچ مصالحے، تلی ہوئی اشیا، کولڈ ڈرنکس اور فاسٹ فوڈ کا استعمال کم کریں۔
پانی ہاضمہ بہتر بنانے اور قبض سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
روزانہ کم از کم تیس منٹ چہل قدمی یا ہلکی ورزش نظامِ ہاضمہ کو بہتر رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
زیادہ ذہنی دباؤ ہاضمے کی کئی بیماریوں کو بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر آئی بی ایس۔
گہری سانس لینا، مناسب نیند، نماز، واک یا دیگر پرسکون سرگرمیاں ذہنی سکون فراہم کرتی ہیں۔
یہ عادات معدے اور غذائی نالی کی کئی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔
اگر علامات بار بار ظاہر ہوں یا زیادہ عرصے تک برقرار رہیں تو خود علاج کرنے کے بجائے ماہر معدہ سے رجوع کریں۔
مریض کی علامات کے مطابق ڈاکٹر مختلف ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں، جیسے:
یہ ٹیسٹ بیماری کی صحیح وجہ معلوم کرنے اور مؤثر علاج شروع کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
درج ذیل علامات میں فوری طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔
بروقت تشخیص کئی پیچیدگیوں سے بچا سکتی ہے۔
ہاضمے کی عام بیماریاں اگرچہ بہت عام ہیں، لیکن بروقت تشخیص، متوازن غذا، مناسب پانی، ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرکے ان سے کافی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔
اگر آپ کو مسلسل پیٹ درد، سینے کی جلن، قبض، اسہال یا دیگر ہاضمے کے مسائل کا سامنا ہو تو جلد از جلد ماہر معدہ سے مشورہ کریں تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج ممکن ہو سکے۔
یہ ایسی بیماریاں ہیں جو معدے، آنتوں، غذائی نالی یا نظامِ ہاضمہ کے دیگر حصوں کو متاثر کرتی ہیں۔
سینے کی جلن، پیٹ درد، گیس، اپھارہ، قبض، اسہال، متلی، الٹی اور وزن میں کمی عام علامات ہیں۔
صحت مند غذا، زیادہ پانی، روزانہ ورزش، فائبر والی خوراک، ذہنی دباؤ میں کمی اور بروقت طبی معائنہ ہاضمے کو بہتر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
زیادہ پانی پئیں، فائبر والی غذائیں کھائیں، روزانہ ورزش کریں اور غیر ضروری ادویات کے استعمال سے گریز کریں۔
اگر علامات مسلسل رہیں، پاخانے میں خون آئے، شدید پیٹ درد ہو، وزن تیزی سے کم ہو یا بار بار اسہال اور قبض ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
نہیں۔ اینڈوسکوپی صرف اس وقت کی جاتی ہے جب ڈاکٹر کو بیماری کی درست تشخیص کے لیے اس کی ضرورت محسوس ہو۔
اگر آپ کو پیٹ درد، سینے کی جلن، قبض، اسہال، اپھارہ، گیس یا ہاضمے سے متعلق دیگر مسائل کا سامنا ہے تو انہیں نظر انداز نہ کریں۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج مستقبل میں پیچیدگیوں سے بچنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہمارے تجربہ کار ماہر معدہ سے مشورہ حاصل کریں تاکہ آپ کی علامات کا درست جائزہ لیا جا سکے اور آپ کے لیے مؤثر علاج کا منصوبہ تیار کیا جا سکے۔ اگر ضرورت ہو تو اینڈوسکوپی، کولونوسکوپی، ای آر سی پی یا دیگر ضروری تشخیصی ٹیسٹ بھی تجویز کیے جا سکتے ہیں۔
آج ہی اپنی مشاورت کے لیے وقت بک کریں اور اپنی ہاضمے کی صحت کا خیال رکھیں۔
Copyright © 2024 Prof Muzaffar Latif Gill. All rights reserved. Powered By AKITS